اتوار 14 جون 2026 - 16:03
سخت پابندیوں اور دباؤ کے باوجود بحرین میں محرم ۱۴۴۸ کا انعقاد، عزاداری کے عزم میں کوئی کمی نہیں

حوزہ/ اس سال محرم الحرام 1448 ہجری بحرین میں ایک غیر معمولی اور حساس ماحول میں منایا جائے گا، جہاں عزاداریٔ امام حسین علیہ السلام کو سیاسی و سیکیورٹی دباؤ اور مختلف پابندیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس بار عاشورائے حسینی کی یاد میں ہونے والی مجالس اور شعائر نہ صرف مذہبی وابستگی کا اظہار ہوں گے بلکہ ایک سماجی و فکری آزمائش کی شکل بھی اختیار کریں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس سال محرم الحرام 1448 ہجری بحرین میں ایک غیر معمولی اور حساس ماحول میں منایا جائے گا، جہاں عزاداریٔ امام حسین علیہ السلام کو سیاسی و سیکیورٹی دباؤ اور مختلف پابندیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس بار عاشورائے حسینی کی یاد میں ہونے والی مجالس اور شعائر نہ صرف مذہبی وابستگی کا اظہار ہوں گے بلکہ ایک سماجی و فکری آزمائش کی شکل بھی اختیار کریں گے۔

مقامی ذرائع کے مطابق بحرین، جسے بعض حلقے “کربلائے ثانی” بھی کہتے ہیں، میں ہر سال محرم و صفر کے دوران ہزاروں افراد عزاداری کے اجتماعات منعقد کرتے ہیں۔ تاہم اس سال صورتحال مختلف بتائی جا رہی ہے اور بعض ہدایات کے تحت شعائر کو صرف حسینیہ اور مخصوص مقامات تک محدود رکھنے کی کوششیں سامنے آئی ہیں، جس سے مذہبی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہ

علمائے کرام نے اس سال کے لیے مرکزی نعرہ “لا معبود سِواک” (تیرے سوا کوئی معبود نہیں) مقرر کیا ہے، جسے توحید کے بنیادی پیغام اور ظلم و طاغوت سے انکار کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس شعار کا مقصد روحانی استقامت، صبر اور اللہ پر توکل کے جذبے کو مضبوط کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق موجودہ حالات میں عزاداری کو محدود کرنے، بعض مجالس پر پابندیوں اور مذہبی شخصیات پر دباؤ جیسے اقدامات کے باعث ماحول مزید حساس ہوگیا ہے۔ مذہبی رہنما اس صورت حال کو مذہبی شناخت اور آئینی آزادیوں کے تناظر میں ایک اہم مرحلہ قرار دے رہے ہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق محرم کا یہ موسم بحرینی شیعہ کمیونٹی کے لیے اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کے اظہار کا اہم موقع ہے، جہاں مجالس، جلوسوں اور دیگر شعائر کو نہ صرف عبادت بلکہ اجتماعی یادداشت اور تاریخی شعور کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب حکام کی جانب سے سیکیورٹی و انتظامی وجوہات کے تحت بعض ضوابط کا نفاذ کیا گیا ہے، جنہیں سرکاری سطح پر نظم و ضبط کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے، جبکہ مذہبی حلقے اسے مذہبی آزادیوں پر قدغن سے تعبیر کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر محرم 1448 بحرین میں ایک ایسے دور کی نشاندہی کر رہا ہے جس میں مذہبی وابستگی، سماجی شناخت اور سیاسی حالات ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اور اس دوران ہونے والی سرگرمیاں آنے والے حالات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha